1جَب تُم حاکم کے ساتھ کھانے کے لیٔے بیٹھو، تو نہایت غور سے دیکھو کہ تمہارے سامنے کون ہے۔
2اَور اگر تُم کھانے کے شوقین ہو تو اَپنے گلے پر چھُری رکھو۔
3اُس کے لذیذ کھانے کا خواستگار نہ ہو، کیونکہ وہ کھانا دھوکے کا ہے۔
4مالدار ہونے کے لیٔے دَوڑ دھوپ نہ کرو؛ بَلکہ حِکمت سے کام لو اَور خُود پر قابُو پا لو۔
5دولت تمہارے دیکھتے دیکھتے غائب ہو جائے گی، کیونکہ اُس میں یقیناً عُقاب کی مانند پر لگ جایٔیں گے، اَور وہ آسمان کی طرف اُڑ جائے گی۔
6تُم کنجوس آدمی کی روٹی نہ کھانا، اَور نہ اُس کے لذیذ کھانے کی تمنّا کرنا؛
7کیونکہ وہ اَیسا آدمی ہے جو دِل کا کنجوس ہے وہ تُم سے کہتاہے، ”کھائیے اَور پیجئے!“ لیکن یہ بات اُس کے دِل سے نہیں، صِرف مُنہ سے نکلتی ہے۔
8تُم نے جو تھوڑا بہت کھایا ہوگا اُسے تُم اُگل دوگے، اَور تمہارے تعریفی کلمات بے سُود ثابت ہوں گے۔
9احمق سے ہم کلام نہ ہو، وہ تمہارے حِکمت بھرے الفاظ کی تحقیر کرےگا۔
10قدیم حَد کے پتّھر کو نہ ہٹانا، نہ یتیموں کے کھیتوں پر قبضہ کرنا۔
11کیونکہ اُن کا بچانے والا زبردست طاقتور ہے، وہ تمہارے خِلاف اُن کا مُقدّمہ لڑے گا۔
12تربّیت پر اَپنا دِل لگاؤ اَور علم کی باتوں کو غور سے سُنو۔
13لڑکے کی تربّیت سے کوتاہی نہ کرو؛ کیونکہ اگر تُم اُسے چھڑی سے مارو بھی، تو وہ نہ مَرے گا۔
14اُسے چھڑی سے مارو اَور اُس کی جان کو پاتال سے بچالو۔
15اَے میرے بیٹے! اگر تمہارا دِل دانا ہے، تو میرا دِل بھی خُوش ہوگا؛
16جَب تمہارے لبوں سے جائز باتیں نکلیں گی تو میرا دِل بھی شادمان ہوگا۔
17تمہارا دِل گُنہگاروں پر رشک نہ کرے، بَلکہ تُم ہمیشہ یَاہوِہ کے خوف میں زندگی گُزارو۔
18کیونکہ تمہارا اجر یقینی ہے، اَور تمہاری اُمّید نہ ٹُوٹے گی۔
19اَے میرے بیٹے! سُنو اَور دانا بنو، اَور اَپنا دِل سیدھی راہ پر قائِم رکھو:
20شرابیوں اَور کبابیوں کی صحبت سے دُور رہنا،
21کیونکہ متوالوں اَور پیٹو مُفلس ہو جایٔیں گے، اَور نیند اُنہیں چیتھڑے پہنائے گی۔
22اَپنے باپ کی سُنو جنہوں نے تُمہیں زندگی بخشی، اَور اَپنی ماں کی ضعیفی میں اُن کی تحقیر نہ کرنا۔
23سچّائی کو خرید لو اَور اُسے فروخت نہ کرنا؛ اَور حِکمت، تربّیت اَور فہم کو حاصل کرنا۔
24راستباز آدمی کے باپ کو بڑی خُوشی ہوگی؛ جِس کے ہاں دانشمند بیٹا ہوگا، وہ باپ بھی اُس سے خُوش ہوگا۔
25تمہارے والدین تُم سے خُوش ہوں؛ اَور جِس ماں نے تُمہیں پیدا کیا وہ تمہارے باعث خُوشی منائے!
26اَے میرے بیٹے! اَپنا دِل مُجھے دو اَور تمہاری آنکھیں میری راہوں پر لگی رہیں،
27کیونکہ فاحِشہ ایک گہرا گڑھا ہے اَور بدچلن بیوی ایک تنگ کنواں ہے۔
28وہ ایک راہزن کی طرح گھات میں بیٹھتی ہے، اَور آدمیوں میں دغابازوں کی تعداد بڑھاتی ہے۔
29کون افسوس کرتا ہے؟ کون غمزدہ ہے؟ کون جھگڑوں میں پھنسا ہے؟ کسے شکایتیں ہیں؟ کون بے سبب زخمی ہے اَور کس کی آنکھیں سُرخ ہو گئی ہیں؟
30اُن کی، جو خُوب مَے نوشی کرتے ہیں، وُہی جو مِلی جلی شراب کے نمونوں کے جام چَکھنے جاتے ہیں۔
31جَب مَے سُرخ نظر آئے، جَب اُس کا جام بھی چمک رہا ہو، اَور جَب وہ روانی کے ساتھ گلے سے نیچے اُترتی ہے، تَب تُم اُس کی طرف سے نظریں ہٹا لینا!
32کیونکہ آخِرکار وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہے اَور افعی کی مانند ڈس لیتی ہے۔
33تمہاری آنکھیں عجِیب نظارے دیکھیں گی اَور تمہارے دماغ میں عجِیب عجِیب خیال آئیں گے۔
34تُم سمُندر کے درمیان لیٹنے والے، یا مستُول کے سِرے پر سونے والے کی مانند ہوگے۔
35تُم کہو گے، ”اُنہُوں نے مُجھے مارا لیکن مُجھے چوٹ نہیں لگی! اُنہُوں نے مُجھے پِیٹا لیکن مُجھے مَعلُوم تک نہ ہُوا! میں کب جاگوں گا تاکہ ایک اَور جام نوش کر سکوں؟“